قاہرہ،24/جون (آئی این ایس انڈیا) لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے باور کرایا ہے کہ اگر لیبیا کی قومی سلامتی اور مصر کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑی تو لیبیا کے عوام سرکاری طور پر مصر سے عسکری مداخلت کا مطالبہ کریں گے۔ صالح کے مطابق مسلح دہشت گرد ملیشیاؤں نے مصری صدر السیسی کی بتائی ہوئی سرخ لائن کو پار کیا اور سرت اور الجفرہ شہروں کو عبور کیا تو قانونی دفاع کے طور پر مصری مداخلت ناگزیر ہو جائے گی۔
مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "انباء الشرق الاوسط" کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صالح نے کہا کہ سرت میں دراندازی کی صورت میں ہم لیبیا کی فوج کی مدد کے لیے مصری مسلح افواج کی مداخلت کا مطالبہ کریں گے۔ مسلح ملیشیاؤں نے سرخ لائن کو پار کیا تو لیبیا میں مصری مداخلت قانونی حیثیت کی حامل اور لیبیائی عوام کی جانب سے تفویض کی بنیاد پر ہو گی۔ مصر لیبیا کی قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی قومی سلامتی کی بھی رکھوالی کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا ہے اور ملیشیاؤں کو ایسے علاقوں پر قبضہ کرنے سے روک رہا ہے جو مصر کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں۔
عقیلہ صالح نے زور دے کر کہا کہ لیبیا کی فوج اقتدار کی بھوکی نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف مسلح ملیشیاؤں سے لیبیا کے عوام کی جان چھڑانا ہے۔ ترکی کی جانب سے 15 ہزار سے زیادہ اجرتی جنگجؤں کو دارالحکومت منتقل کیے جانے کے بعد لیبیا کی فوج کا طرابلس کی جانب حرکت میں آنا درست تھا۔ لیبیا کی فوج کی یہ نقل و حرکت بین الاقوامی مطالبات کے جواب میں تھی۔ ان مطالبات میں فائر بندی اور عالمی برادری کے ساتھ رابطہ کاری پر زور دیا گیا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سامنے آنے والے "اعلانِ قاہرہ" میں بنیادی پہلو فائر بندی ہے۔ یہ بین الاقوامی مطالبہ ہے اور مصر بھی ہمیشہ اس پر زور دیتا رہا ہے۔ اس کے بعد مذاکرات کی میز کی جانب جانا جب کہ استعماری قوتیں اور بعض صاحب مفاد لیبیائی عناصر اس حل کو مسترد کرتے ہیں۔